وفا کے موتی | ترجمہ و ترتیب: عابد میر

 500.00

Add to wishlist
Share
    آسکر وائلڈ کا محبت نامہ
    پیاری!
    کائنات کی کوئی چیز تمہارے جسم سے زیادہ سفید نہیں، اور کائنات کی کوئی چیز تمہارے بالوں سے زیادہ سیاہ نہیں، اور پوری کائنات میں ایسی کوئی چیز نہیں، جو تمہارے رسیلے ہونٹوں سے زیادہ سرخ ہو۔ تمہارا دہن اجنبی خوشبوؤں کا منبع ہے۔ تمہاری موسیقی بھری آواز مجھے مسحور کردیتی ہے۔
    آیو کانیان ! تم کب مجھ پہ نظرِ کرم کرو گی! تمہارے نرم و نازک ننھے منے ہاتھ تمہارے چہرے کو چھپانے میں ناکام رہتے ہیں۔ تمہاری گہری آنکھیں ، خدا کو بھی گھائل کرسکتی ہیں، مگر وہ خدا نہیں میں ہوں جو ان سے گھائل ہوا ہے۔ یہ میری طرف نہیں دیکھتیں، گویا انہیں مجھ سے رغبت نہیں۔ مگر میں پھر بھی ان کی چاہ میں ہوں۔ میں صرف ان سے ہی محبت کرسکتا ہوں۔ میں حسن کا پیاسا ہوں، میں جسم کا بھوکا ہوں۔ نہ شراب میری پیاس مٹا سکتی ہے، نہ انگور میری بھوک کم کرسکتے ہیں۔ میں کیا کروں آیو کانیان! کوئی طوفان یا سیلاب بھی میرے جذبات کو ٹھنڈا نہیں کرسکتا۔
    میں ایک شہزادہ تھا جس کا تخت چھین لیا گیا، میں ایک کنوارا تھا جس کی دوشیزگی پامال کر دی گئی۔ میں معصوم تھا اس لیے میری رگوں میں آگ نہیں بھری جاسکی۔ اپنی آنکھوں سے کہو مجھے یوں اجنبیوں کی طرح مت دیکھیں! یہ اگر میری اور نہیں دیکھتیں تو گویا مجھ سے محبت نہیں کرتیں! اچھا میں جانتا ہوں یہ مجھ سے محبت نہیں کرتیں، پر میں نے ان سے جانا ہے کہ محبت کا سحر، موت کے سحر سے زیادہ طاقت ور ہے۔
    تمہارا ۔۔۔۔
    آسکر
    کتاب: وفا کے موتی
    ترجمہ و ترتیب: عابد میر

    Reviews

    There are no reviews yet.

    Be the first to review “وفا کے موتی | ترجمہ و ترتیب: عابد میر”

    Your email address will not be published. Required fields are marked *